خبردار! اس ویکسین سے خطرناک بیماری ہو سکتی ہے

1

خبردار! اس ویکسین سے خطرناک بیماری ہو سکتی ہے

واشنگٹن امریکی ادارے ایف ڈی اے نے جانسن اینڈ جانسن کی تیار کردہ کورونا ویکسین سے خبردار کردیا،

فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے کہا کہ ویکسین لگنے والے افراد کا انوکھی اعصابی بیماری’’گیلن برّے سینڈروم‘‘میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہے، ویکسین کی ڈوزز کے42 روز بعد بیماری کی علامات ظاہر ہوسکتی ہیں

corona vaccine

بیماری سے متعلق جانسن اینڈ جانسن کے انتباہی لیبل کو اپڈیٹ کر دیا گیا۔تفصیلات کے مطابق ادویات کے ریگولیٹری امریکی ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے جانسن اینڈ جانسن کی تیار کردہ ویکسین کے انتباہی لیبل کو اپڈیٹ کردیا ہے، جس کے تحت انوکھی اعصابی بیماری Guillain-Barre سینڈروم میں مبتلا ہونے کے خطرے سے متعلق معلومات شامل کی گئی ہیں۔


پانچ بیٹیوں کی ماں کا 21 سالہ لڑکے سے چوتھی شادی کا فیصلہ


جانسن اینڈ جانسن کی تیارکردہ کورونا ویکسین لگوانے والے افراد میں انوکھی اعصابی بیماری لاحق ہونے کا امکان ہے،

غیرملکی خبررساں ادارے روئٹرز نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ویکسین کے تحفظ کی نگرانی کے ادارے کی رپورٹ کے جائزے کے بعد حکام نے تصدیق کی ہے کہ ویکسین کی ڈوزز لینے والے 100 افراد میں گیلن برّے سینڈروم کی تشخیص ہوئی۔

امریکا میں تقریباً ایک کروڑ 28 لاکھ افراد جانسن اینڈ جانسن کی تیارکردہویکسین کی ایک ڈوز لے چکے ہیں، جن میں 100 افراد میں گیلن برّے سینڈروم کی تشخیص ہوئی۔

ان سو افراد میں 95 افراد کی تشویشناک حالت میں ہسپتال میں داخل کروائے گئے۔ جبکہ ان میں ایک ہلاکت بھی رپورٹ ہوئی ہے۔ اس اعصابی بیماری میں جسم کا مدافعتی نظام اعصابی خلیوں کو نقصان پہنچاتا ہے، جو پٹھوں کی کمزوری اور بہت سے سنگین کیسز میں فالج کا بھی سبب بن سکتا ہے،

نئے انتباہی لیبل پر درج کیا گیا کہ متاثرہ افراد میں سے زیادہ تر میں ویکسین کی ڈوز لینے کے 42 دنوں کے بعد علامات ظاہر ہوئیں،

اگر کسی کو کمزوری یا جسم کے حصے خصوصاً ہاتھ اور پیرسُن محسوس ہوں، چبھن ، چلنے میں دشواری یا چہرے کو حرکت دینے میں مشکل جیسی علامات ہوں تو فوری معالج سے رجوع کرنا چاہیے کیوںکہ حالت بگڑنے سے بیماری جسم کے دیگر حصوں تک بھی پھیل سکتی ہے۔
بتایا گیا ہے کہ امریکا میں یہ بیماری ہرسال3ہزار سے 6ہزار افراد کو متاثر کرتی ہے جس میں زیادہ مریض مرض سے چھٹکارا پاکر مکمل شفایاب ہوجاتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.