چیئرمین ریلوے حبیب الرحمان نے ٹریک ٹھیک نہ کرنے کی وجہ بتا دی

خرابی کا پہلے سے ہی علم تھا، چیئرمین ریلوے حبیب الرحمان نے ٹریک ٹھیک نہ کرنے کی وجہ بتا دی

16

خرابی کا پہلے سے ہی علم تھا، چیئرمین ریلوے حبیب الرحمان نے ٹریک ٹھیک نہ کرنے کی وجہ بتا دی

 

ہم اربوں روپے خرچ کرکے ٹریک کی مرمت نہیں کرنا چاہتے تھے، کیونکہ ایم ایل ون منصوبے میں جب متبادل ٹریک بچھایا جائے گا تو دوبارہ رقم خرچ کرنا پڑے گی، چیئرمین ریلوے حبیب الرحمان

اسلام آباد (اُردو نیوز۔ 07 جون 2021ء) ہم جانتے تھے کہ پٹری کا کون سا حصہ خراب ہے، لیکن ہم اربوں روپے خرچ کرکے ٹریک کی مرمت نہیں کرنا چاہتے،

چیئرمین ریلوے حبیب الرحمان کا ریلوے ٹریک کی خرابی سے پہلے سے آگاہ ہونے کا اعتراف، ٹریک ٹھیک نہ کرنے کی وجہ بتا دی-

تفصیلات کے مطابق نجی ٹیلی ویژن چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین ریلوے نے کہا کہ ہم جانتے تھے کہ پٹری کا کون سا حصہ خراب ہے، لیکن ہم اربوں روپے خرچ کرکے ٹریک کی مرمت نہیں کرنا چاہتے، کیونکہ ایم ایل ون منصوبے میں جب متبادل ٹریک بچھایا جائے گا تو دوبارہ رقم خرچ کرنا پڑے گی –

نجی ٹیلی ویژن چینل کے پروگرام میں اینکر نے چیئرمین ریلوے سے سوال کیا کہ اس بات کی کوئی منطق نہیں کہ ایم ایل ون ریلوے ٹریک کی وجہ سے پہلے سے موجود ٹریک کے ٹھیک نہیں کیا گیا، کیا یوں اسی طرح سینکڑوں لوگوں کی جانوں کو ضائع ہونے کے چھوڑ دیا جائے گا-

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے چئیرمین ریلوے نے کہا کہ ہم نے ٹریک کو عارضی طور پر ٹھیک کرنے کیلئے کچھ رقم خرچ کی ہے اور ہنگامی بنیادوں پر بھی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، لیکن اس مسئلے کا مستقل حل ایم ایل ون ریلوے منصوبہ ہے-

خیال رہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا ہے کہ ریلوے حادثے کے مسافروں کا خون سابق حکومتوں کے سر پر ہے ، ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی حکومتوں کی وجہ سے ریلوے حادثات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، لاہور میٹروٹرین کا پیساریلوے پر خرچ ہوتاتو آج ہمیں حادثات کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔

انہوں نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ریلوے حادثہ بہت بڑا حادثہ ہے، وفاقی وزیرجائے حادثے پر موجود ہیں، انہو ں نے کہا کہ 1388مسافردونوں ٹرینوں میں سوار تھے، حادثے کے وقت دونوں ٹرینیں ایک دوسرے کو کراس کررہی تھیں ،ملت ایکسپریس کی 18بوگیاں دوسری طرف چلی گئی، جس سے سرسید ایکسپریس ٹکرا گئیں، انہوں نے کہا کہ ہم پر بدترین حکمران مسلط رہے جن کو عوام کی کوئی فکر نہیں تھی،

پہلی بات یہ ہے کہ سالہ سال کی غفلت سے حادثات ہورہے ہیں۔

ہمیں یاد ہے جب پاکستان میں ریلوے بنا، تو یہ ریلوے دنیا کی بہترین ریلوے تھی، پھر نوازشریف آگئے، ن لیگ کی حکومت آئی تو منگلا کی طرف جانے والے ٹریک اتفاق والوں نے خرید لیے،جس طریقے سے ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے ریلوے کو چلایا ہمیں حادثات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،ان لوگوں نے کرپشن اور سینہ زوری کی بنیاد رکھی۔

اس کی وجہ سے ہم حادثات کا سامنا کر رہے ہیں ، کہا گیا ہم نے بجٹ کو دوتہائی کم کردیا، اس بجٹ کی کرپشن کی وجہ سے سعد رفیق نیب میں کیس ہے، ہم پر ایک بدترین دور نافذ رہا، ایسے حکمران مسلط رہے جن کو قوم کی پروا نہیں تھی، لاہور میٹروٹرین پر جو پیسا خرچ ہوا وہ ریلوے پر خرچ ہوتا آج ہمیں حادثات کا سامنا نہ کرنا پڑتا، چاہے پی ٹی وی، ریلوے، پی آئی اے، اسٹیل ملز ہو، ان اداروں کو اٹھنے نہیں دیا  گیا .

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.