موبائل فون سے جڑی وہ عادات جو ہماری ذہنی صحت کیلئے شدید نقصان دہ ہیں، جانئے اور احتیاط کیجئے

8

موبائل فون سے جڑی وہ عادات جو ہماری ذہنی صحت کیلئے شدید نقصان دہ ہیں، جانئے اور احتیاط کیجئے

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) ہماری کچھ ایسی عادات ہوتی ہیں جو ہماری ذہنی صحت کے لیے شدید نقصان دہ ہوتی ہیں۔

اب ایک ماہر برطانوی اخبار ’دی سن‘ سے گفتگو کرتے ہوئے ان میں سے کچھ عادات بیان کر دی ہیں جنہیں ترک کرکے لوگ ذہنی عارضوں سے حتی الامکان محفوظ رہ سکتے ہیں۔

ٹیک فرم فری لیٹکس کے ساتھ وابستہ ونیزا گیبارٹ نامی اس مائنڈ کوچ کا کہنا ہے کہ ”ہماری کچھ عادات فون کے استعمال سے متعلق ہیں جو ہماری ذہنی صحت کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں۔

ان میں غیرارادی طور پر بار بار فون چیک کرنا، مختلف سوشل میڈیا ایپلی کیشنز کے نوٹیفکیشنز دیکھنا اور زیادہ وقت فون پر گزارنا ہیں۔

ان عادات میں دراصل ہم اپنی مرضی کے نوٹیفکیشنز دیکھنا چاہ رہے ہوتے ہیں اور جب نوٹیفکیشنز نہیں آتے یا ہماری مرضی کے نہیں آتے تو ہماری فوری تشفی نہیں ہوتی، جس کے ہماری ذہنی صحت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

اسی طرح فون زیادہ استعمال کرنے سے ہمارے اندر خوداعتماد میں کمی آتی ہے اور ذہن میں منفی خیالات آنے لگتے ہیں۔“
ونیزا گیبارٹ کا کہنا تھا کہ ”سائنسدان کئی تحقیقات میں بھی موبائل فون سے متعلق ان عادات کے سنگین منفی نقصانات بتا چکے ہیں۔

آپ کو اپنے سکرین ٹائم کی نگرانی کرنی چاہیے اور اتنا وقت ہی سکرین پر گزارنا چاہیے، جسے آپ معنی خیز سمجھتے ہوں۔

سکرین پر بے معنی وقت گزارنا ذہنی صحت کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔

سوشل میڈیا پر لوگوں کو فالو کرتے ہوئے اور ان کی پوسٹس دیکھتے ہوئے بھی آپ کو حاضر دماغی سے کام لینا چاہیے۔

مثبت سوچ رکھنے والے لوگوں سے سوشل میڈیا پر ربط رکھیں اور مثبت پوسٹ پر توجہ مرکوز کریں، منفی پوسٹس کو نظرانداز کرنے کی عادت اپنائیں۔“

ونیزا گیبارٹ کا کہنا تھا کہ ”سیر کے لیے باہر نہ جانابھی ذہنی صحت کے لیے ایک انتہائی منفی عادت ہے۔

Mobile phone habits that are very harmful to our mental health, know and be careful

یہ اس قدر مضرعادت ہے کہ میں لاک ڈاﺅن کو بھی سیر کے لیے باہر نہ جانے کا جواز تسلیم نہیں کرتی۔ دن میں ایک بار کم از کم آدھ گھنٹے کے لیے آپ کو تازہ ہوا میں سیر کے لیے لازمی جانا چاہیے۔

اس کے آپ کی ذہنی صحت پر بہت مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں اورآپ ڈپریشن سمیت کئی طرح کے ذہنی عارضوں سے محفوظ رہتے ہیں۔


چیمپئنز ٹرافی 2009ء کے دوران بغاوت کا ماسٹر مائنڈ شاہد آفریدی تھا: یونس خان


سیر پر نہ جا کر آپ سورج کی روشنی سے ملنے والے وٹامن ڈی سے بھی محروم ہو رہے ہوتے ہیں۔ اس کی کمی بھی آپ کوڈپریشن میں مبتلا کر سکتی ہے۔

بہت کم نیند لینا بھی ایک ایسی عادت ہے جو ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔

اس کے علاوہ ورزش نہ کرنا، ناقص خوراک (پراسیسڈ فوڈز، کیک، بریڈ، بسکٹ وغیرہ)کھانا، زندگی میں مختلف امور کی انجام دہی میں بدسلیقہ اور غیرمنظم ہونا اور کاموں کو اگلے وقت پر مو¿خر کرتے رہنا بھی ایسی عادات ہیں جو ذہنی صحت کے لیے بہت خطرناک ہیں۔“

تبصرے بند ہیں.