معروف یوٹیوبرزکو چھوٹے سے جرم کی پاداش میں بالی جیسے خوبصورت جزیرے سے ملک بدر کر دیا گیا

پرینک کرنے والے یوٹیوبرز کے خلاف انڈونیشیا کے جزیرے پر رہنے کے حوالے سے بڑا قدم اٹھا لیا گیا،ذرائع

10

معروف یوٹیوبرزکو چھوٹے سے جرم کی پاداش میں بالی جیسے خوبصورت جزیرے سے ملک بدر کر دیا گیا

پرینک کرنے والے یوٹیوبرز کے خلاف انڈونیشیا کے جزیرے پر رہنے کے حوالے سے بڑا قدم اٹھا لیا گیا،ذرائع

بالی (اردو نیوز تازہ ترین  ۔ 01 مئی 2021ء ) سرکاری ذرائع کے مطابق دو لوگوں کو انڈونیشیا کے خوبصورت جزیرہ بالی سے ملک بدر کر دیا گیا ہے جنہیں فیس ماسک پینٹ کر کے ”پرینک“کرنے پر جیل کی سزابھی بھگتنا پڑی تھی۔

اطلاعات کے مطابق جوش پالر لین اور لیشا سے نامی جوڑے نے ویڈیو بنائی تھی جس میں ”لین“ نے ”سے“ کے چہرے پر جعلی فیس ماسک بنایا تھا اور اس کے بعد اسے ایسے گروسری اسٹور میں بھیج دیا جہاں ماسک پہن کر جانا ضروری قرار دیا گیا تھا۔

جیسے ہی یہ ویڈیو لین کے یوٹیوب چینل پر اپلوڈ کیا گیا تو اس کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا۔جبکہ انڈونیشیا میں عوامی مقامات پر ماسک پہننے کے حوالے سے انتہائی سخت برتی جا رہی ہے اور عوامی جگہوں پر جانے کے لیے ماسک کا استعمال ضروری قرار دیا گیا ہے۔

پہلی مرتبہ اس قسم کے جرم کا مرتبک ہونے پر70ڈالر جرمانہ کی سزا رکھی گئی ہے۔جبکہ دوسری بار ایسا کرنے پر غیر ملکی افراد کو ملک بدر کرنے کی سزا ہے۔

تازہ ترین خبریں پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

اگرچہ لین اور سے کی طرف سے یہ پہلی غلطی تھی مگر عوام کی طرف سے بالی کی انتظامیہ پر اس قدر دباؤ آیا کہ انہیں مجبوراً اس یوٹیوبر جوڑے کو ملک بدر کرنا پڑ گیا۔بالی کی وزارت جسٹس اینڈ ہیومن رائٹس کے علاقائی ہیڈ جمارولی مانی ہوروک نے ایک نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ”2011کے آئین کی شک نمبر6کے مطابق ہم غیر ملکی افراد کو ملک بدر کر دیں گے“۔

یاد رہے کہ بالی کے جزیرے پر کوکونٹس نامی مقامی بلاگر نے ماسک اسٹنٹ کی ویڈیو کا چیلنج کیا تھا۔جبکہ مانی ہوروک کے مطابق غیر ملکی افراد کو اس قسم کے جرم کے ارتکاب میں پہلی موجود فلائٹ میں اپنے وطن روانہ کر دیا جائے گا۔

بالی ایک محفوظ جزیرہ ہے بہت سارے افراد نے اس وبا کے دوران بھی اپنے وطن جانے کی بجائے اس خوبصورت جزیرے پر رہنے کو ترجیح دی تھی۔

جبکہ لین کی ویڈیو نے بالی کے جزیرے میں اس علاقے میں شعلہ کو بھڑکانے والی بات کی تھی جہاں پر مقامی اور غیر ملکی افراد کے درمیان پہلے ہی تقسیم کی لکیر حائل تھی۔

اگرچہ انہوں نے اپنے یوٹیوب چینل پر سے یہ ویڈیو ہٹا دی تھی مگر تب تک یہ سوشل میڈیا پر اچھی خاصی وائرل ہو چکی ہوئی تھی۔جبکہ اس حوالے سے 24اپریل کو جوڑے نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں انہوں نے اپنے وکیل کے سامنے قانون توڑنے پر معذرت کی تھی۔

ویڈیو میں ان کا موقف تھا کہ ہم نے یہ ویڈیو محض لوگوں کو محظوظ کرنے کے لیے بنائی تھی کیونکہ ہم یوٹیوب بر ہیں اور ہمارا یہی کام ہے کہ لوگوں کے لیے انٹرٹین کا بندوبست کریں۔جبکہ انہوں نے ماسک بھی لگا رکھا تھااور اپنے ویڈیو پیغام میں بالی جزیرے پر رہنے والے سبھی لوگوں کو ماسک پہننے کی ہدایت بھی کی تھی۔تاہم اس ویڈیو کے اپلوڈ ہونے میں ذرا سی تاخیر ہو گئی تھی کیونکہ تب تک ان کے لیے قانونی ایکشن لینے کا فیصلہ کر لیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:معین علی نے پاکستانی ٹیم کو بھارت سے زیادہ خطرناک قرار دے دی

لین جو کہ تائیوان سے تعلق رکھتے ہیں وہ یوٹیوب پر اسٹنٹ ویڈیوز کرنے کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں اور ان کے 3.4ملین سبسکرائبر ہیں۔جبکہ سے ایک روسی شہری ہیں اور ان کے انسٹاگرام پر 25ہزار فالوورز ہیں۔یاد رہے کہ جب سے کورونا وبا نے سر اٹھایا ہے تب سے اب تک انڈونیشیا میں کورونا کے 1.6ملین کسیز سامنے آئے ہیں ا ور 45ہزار لوگوں کی اموات ہو چکی ہوئی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.