رحمتوں اور برکتوں والے مہینے میں مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی

رمضان المبارک کی آمد سے دنیا کا ہر مسلمان خوشی سے جھوم اٹھتا ہے۔

1

رحمتوں اور برکتوں والے مہینے میں مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی

بشریٰ شیخ

رمضان المبارک کی آمد سے دنیا کا ہر مسلمان خوشی سے جھوم اٹھتا ہے۔

افطار سے چند وقفہ کے بعد مرد و خواتین،بچے،بزرگ سبھی مسجدوں کی طرف دوڑتے ہوئے آتے ہیں۔تاکہ زیادہ سے زیادہ نیکیوں کا اجتماع ہو۔

لیکن!اب پھر سے وہی حال جو گزشتہ رمضان میں ہوا یہ سوچ کر حزن و ملال سا طاری ہو جاتا ہے لیکن پھر اندر سے ایک آواز آرہی ہے کہ مایوس نہ ہوں امیدوں کی حوصلہ شکنی نہ کریں،

خود اعتمادی کا جذبہ پیدا کریں یہ جزوی لاک ڈاؤن ہمارے لئے نیا نہیں ہے اس سے قبل بھی ہم ان حالات سے دو چار ہو چکے ہیں

صبر و تحمل سے کام لیں۔

اور غور کرے کہ اب آگے ہمیں کیا کچھ کرنا چاہئے؟۔

اس رمضان المبارک میں منصوبہ بندی کریں اور اس عظیم قدر و منزلت والے ماہ میں اپنے اوقات کی حفاظت کریں

اس لئے کہ یہ ماہ رمضان المبارک اپنے اندر خیر و برکت کو سموئے ہوئے ہے،جو کسی اور ماہ کو حاصل نہیں ہے اور ہو بھی کیوں نہ

اس ماہ کے صیام کے متعلق اللہ فرماتا ”روزہ میرے لئے ہیں اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا“اللہ سرکش جن و شیاطین کو زنجیروں میں جکڑ دیتا ہے تاکہ اس کے بندے خشوع و خضوع سے عبادتیں کریں۔

تازہ ترین خبریں پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

اس ماہ میں جنت کے دروازہ کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازہ بند کر دیئے جاتے ہیں اور حکم الٰہی سے مناد کرنے والا ندا دیتا ہے کہ ”اے خیر کے متلاشی آگے بڑھ اور اے شر کے متلاشی رُک جا“ اس ماہ کی مبارک رات میں اللہ نے قرآن مجید کا نزول فرما کر اس رات کو ’لیلة القدر‘سے موسوم کیا جس رات کی عبادت ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔جو عبادتوں ریاضتوں کا مہینہ ہے،صبر و ضبط،صدقہ و خیرات،غم گساری،صلہ رحمی،ہمدردی،اخوت و بھائی چارگی،دعا و مناجات، کثرت سے توبہ و استغفار،ذکر و اذکار کا مہینہ ہے۔
رمضان المبارک کے مقدس ماہ میں روزانہ اپنے محاسبہ کا معمول بنا لیں کہ آج کتنی عبادتیں ہوئی،کتنا پارہ قرآن معانی و مفاہیم کے ساتھ پڑھا کتنی سورہ و دعائیں حفظ کی۔وغیرہ وغیرہ اور پھر کمی بیشی کی صورت میں دوسرے دن مزید عبادتیں کریں۔

لاک ڈاؤن ہے مالی اعتبار سے لوگ خستہ حال ہیں، بہت ہی بہترین موقع میسر ہے کہ ہم اپنے رب کو راضی کر لیں مستحقین تک صدقہ و خیرات پہنچائیں۔
معاشی طور پر کمزور ہوں تو دوسرے طریقوں سے صدقہ کریں اور رفاہی کام کرکے عوام الناس کا بھلا کریں۔

ان شاء اللہ اس طرح ہم رمضان المبارک کی کئی ایک خیر و برکت سمیٹ لیں گے مثلاً بھائی چارگی،ہمدردی،صلہ رحمی، صبر و ضبط، افطار کرانے کا ثواب وغیرہ اجر کے مستحق بن جائیں گے۔

اسی طرح ہم خواتین افطار تیار کرنے میں جلدی کریں اور تمام لوگ مل کر افطار کے وقت اپنے رب سے عاجزی و انکساری کا مظاہرہ کرے خوب دعائیں کریں۔

اپنے لئے،والدین،رشتہ دار،دوست و احباب تمام امت مسلمہ کے لئے جو باحیات ہے اور جو اس دنیا سے کوچ کر گئے سب کے لئے رو رو کر گڑگڑا کر دعائیں کریں۔

نیز سحری میں جلد بیدار ہو جائیں تاکہ کچھ دیر رب سے توبہ استغفار کر لیں اپنے رب کو راضی کر لیں۔

اس لئے کہ افطار اور سحر کے وقت کی دعا اللہ قبول کرتا ہے اور اپنے آپ کو تمام حرام کمائی اور تمام بری خصلتوں سے محفوظ رکھیں بالخصوص موبائل،انٹرنیٹ سے۔

اگر آپ کو اپنے نفس پر کنٹرول ہے تو ہی انٹرنیٹ کا استعمال کرے ورنہ بچیں۔

رمضان اور لاک ڈاؤن

اس لئے کہ ہم اچھی چیزیں دیکھنے جاتے ہیں شیطان کے بہکاوے میں آکر کچھ بری چیزیں بھی دیکھ لیتے ہیں اس لئے کوشش کرے موبائل استعمال کا ٹائم ٹیبل بنا لے تاکہ وقت کا ضیاع نہ ہو۔

کوشش کریں رمضان المبارک کے ہر ہر لمحہ سے مستفید ہوں اور دعا کرے کہ خیر و عافیت سے رمضان المبارک کا مکمل مہینہ مل جائے اس لئے کہ ممکن ہیں آئندہ رمضان ہمیں نصیب نہ ہوں۔

اس لئے ہمیں چاہیے کہ اوپر ذکر کئے گئے تمام کاموں کے ساتھ اچھے سے مستعد ہو کر زیادہ سے زیادہ رب کو راضی و خوش کرکے جنت الفردوس کے مستحق بن جائے۔

آمین یا رب العالمین۔رمضان اور کورونا وائرس کے باعث کیے گئے لاک ڈاؤن میں مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے،ملک بھر میں کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئی ہیں۔

لاہور اور کراچی میں سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں نے عوام کے ہوش اڑا دیے ہیں اور لاک ڈاؤن کے باعث معاشی مشکلات کے شکار شہری مہنگی اشیاء خریدنے پر مجبور ہیں۔

رمضان کے رحمتوں اور برکتوں والے مہینے میں روزے داروں کے لئے سکنجبین اور فروٹ چاٹ خواب بن کر رہ گئے ہیں۔

اس کے علاوہ اشیائے خوردونوش من پسند قیمتوں پر فروخت کی جا رہی ہیں۔

جس کے سبب ریلیف کے متلاشی شہری بازاروں میں مہنگائی سے پریشان نظر آتے ہیں۔ماہ رمضان میں مردوں سے زیادہ خواتین کے شیڈول متاثر ہوتے ہیں۔

خواتین کو ماہ رمضان میں گھروں کے لوگوں کی فرمائش کو پوری کرنے کے ساتھ اپنی عبادت کو بھی ملحوظ رکھنا ہوتا ہے۔

یہ لاک ڈاؤن ہمارے لئے مقام عبرت ہے۔

گھر میں رہ کر ہم عبادت کرے اور اللہ سے دعا کرے کہ اس وبائی بیماری کا خاتمہ فرمائے۔تاکہ عالم انسانیت کو اس سے نجات مل سکے۔

اس پر آشوب دور میں اپنی خواہشات کو کم کریں اور اپنی پوری توجہ صرف اور صرف اللہ کی جانب مبذول کر دیں۔

روزہ ہمیں اپنے ساتھ دوسروں کی ضرورت کا خیال رکھنے کا بھی حکم دیتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.