پاکستان کی بیٹنگ کے بعد باؤلنگ بھی فلاپ

22

پاکستان کی بیٹنگ کے بعد باؤلنگ بھی فلاپ

انگلینڈ کی نو آموز ٹیم نے شاہینوں کو شکستِ فاش دے دی
کارڈف انگلینڈ کے خلاف سیریز کے پہلے ایک روزہ میچ میں پاکستان کی بیٹنگ کے بعد باؤلنگ بھی فلاپ ہوگئی۔

انگلینڈ کی قدرے نو آموز ٹیم نے 142 رنز کا ہدف باآسانی ایک وکٹ کے نقصان پر 22 ویں اوور میں پورا کرلیا۔

انگلینڈ کی جانب سے 142 رنز کے ہدف کا تعاقب شروع کیا گیا تو فِل سالٹ صرف سات رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے۔

ایک وکٹ گرنے کے بعد ڈیوڈ میلان اور زیک کرالی پاکستان کے باؤلنگ اٹیک کے آگے سیسہ پلائی دیوار بن گئے۔ پاکستان کے تمام باؤلرز نے پورا زور لگایا اور ہر طرح کی ورائٹی آزمائی لیکن اس دیوار میں شگاف ڈالنے میں ناکام رہے
انگلینڈ نے ایک وکٹ کے نقصان پر 21.5 اوورز میں آسان ہدف انتہائی آسانی کے ساتھ حاصل کرلیا۔

چیمپئنز ٹرافی 2009ء کے دوران بغاوت کا ماسٹر مائنڈ شاہد آفریدی تھا: یونس خان

 

انگلینڈ کی جانب سے ڈیوڈ میلان نے 68 اور زیک کرالی نے 58 رنز بنائے۔

پاکستان کے شاہین شاہ آفریدی وہ واحد باؤلر تھے جنہوں نے دوسری اننگز کی اکلوتی وکٹ حاصل کی۔

اس سے قبل انگلینڈ کی نسبتاً نئی اور کم تجربہ کار ٹیم نے شاہینوں کے پرخچے اڑا دیے تھے۔

پہلے ون ڈے میں پاکستان کی پوری ٹیم 35.2 اوورز میں صرف 141 رنز ہی بنا پائی۔

پاکستان ٹیم کو سب سے پہلا جھٹکا اوپننگ بلے باز امام الحق کی صورت میں اس وقت لگا جب وہ میچ کی پہلی ہی گیند پر کوئی بھی رن سکور کیے بغیر آؤٹ ہوکر چلتے بنے۔

ان کے بعد کپتانبابر اعظم خود میدان میں اترے لیکن ان کی کشتی دوسری ہی گیند پر ڈوب گئی۔ وہ بھی کوئی رن سکور کیے بغیر پویلین واپس لوٹے۔

وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان 13 رنز بنا پائے جب کہ سعود شکیل پانچ رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے۔

پاکستان سپر لیگ میں جارحانہ بلے بازی کی وجہ سے مشہور ہونے والے صہیب مقصود بھی متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرسکے اور صرف 19 رنز بنا کر رن آؤٹ ہوگئے۔

ایک اینڈ پر کھلاڑیوں کا آنا جانا لگا ہوا تھا تو دوسرے اینڈ پر اوپنر فخر زمان ڈوبتی کشتی کو سہارا دینے کی کوششوں میں مصروف رہے

تاہم وہ 90 کے مجموعی سکور پر 47 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے۔ فاسٹ باؤلر فہیم اشرف صرف پانچ رنز ہی بنا پائے جب کہ حسن علی مجموعے میں چھ رنز کا اضافہ کرسکے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.