ایک نئی تحقیق کے مطابق طویل دورانیے تک مستقل کام کرنے کی عادت دفتری معاملات میں خطرے سے خالی نہیں

15

ایک نئی تحقیق کے مطابق طویل دورانیے تک مستقل کام کرنے کی عادت دفتری معاملات میں خطرے سے خالی نہیں۔

 

عالمی ادارہٴ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس نے ایک بیان میں کہا کہ یہ بات حیران کن ہے کہ ہر برس اس قدر زیادہ افراد اپنی ملازمتوں کی وجہ سے ہلاک ہوتے ہیں۔

عالمی ادارہٴ صحت اور انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی ایک مشترکہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہر برس دنیا بھر میں حد سے زیادہ کام کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریوں اور زخموں کی وجہ سے 20 لاکھ افراد ہلاک ہوتے ہیں۔

ایک نئی تحقیق کے مطابق طویل دورانیے تک مستقل کام کرنے کی عادت دفتری معاملات میں خطرے سے خالی نہیں۔

عالمی ادارہٴ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس نے ایک بیان میں کہا کہ یہ بات حیران کن ہے کہ ہر برس اس قدر زیادہ افراد اپنی ملازمتوں کی وجہ سے ہلاک ہوتے ہیں۔


کیا شلپا شیٹی نے راج کندرا سے شادی کرکے غلطی کی؟


ایک نئی تحقیق کے مطابق طویل دورانیے تک مستقل کام کرنے کی عادت دفتری معاملات میں خطرے سے خالی نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملازمت سے متعلق ہر ہلاکت روکی جا سکتی ہے اگر صحت اور حفاظت سے متعلق درست اقدامات کیے جائیں۔

عالمی ادارہٴ صحت اور انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی ایک مشترکہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہر برس دنیا بھر میں حد سے زیادہ کام کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریوں اور زخموں کی وجہ سے 20 لاکھ افراد ہلاک ہوتے ہیں۔

corona

انہوں نے انکشاف کیا کہ ان اموات میں لمبے دورانیے تک کام کرنے کی عادت کی وجہ سے ہر برس سب زیادہ افراد ہلاک ہوتے ہیں جن کی تعداد سات لاکھ 50 ہزار کے قریب بتائی جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملازمتوں سے متعلق 80 فی صد سے زائد اموات امراضِ قلب اور سانس کی بیماریوں کی وجہ سے ہوتی ہیں جن کی شدت ملازمتوں کی جگہوں میں بڑھ جاتی ہیں۔

عالمی ادارہٴ صحت میں ماحولیات، ماحولیاتی تبدیلی اور صحت کے محکمے میں ٹیکنیکل افسر کے طور پر کام کرنے والے فرینک پیگا نے کہا ہے کہ سب سے زیادہ خطرے میں 54 برس سے زائد عمر کے مرد ہیں۔

ان ہلاکتوں میں 80 فی صد تو بظاہر نہ نظر آنے والی بیماریاں ہیں جیسے امراض قلب یا سانس کی تکالیف۔

جب کہ باقی 20 فی صد ملازمت کی جگہ پر حادثہ پیش آنے سے ہونے والی اموات ہیں۔

اس تحقیق میں ملازمتوں سے متعلق 11 مضر صحت وجوہات کو دیکھا گیا جن میں لمبے دورانیے تک ملازمت کرنا، ملازمت کی جگہ پر آلودگی سے متاثر ہونا، سرطان پیدا کرنے والے مادے سے متاثر ہونے کے علاوہ شور سے متاثر ہونا بھی شامل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سب سے زیادہ اموات افریقہ میں، پھر انڈوچائنا میں اور بحرلکاہل کے مغربی کنارے پر واقع علاقوں میں ہوتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان علاقوں میں بھی کم یا اوسط درجے کی آمدنی والے ممالک سب سے زیادہ متاثر ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.